➳ ➳➳➳➳➳➳➳➳➳ leaf graphic

Friday, 25 December 2015

لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کی بیٹری بھی آپ کو شناخت کرنے کے لئے استعمال ہوسکتی ہے

لیپ ٹاپ، اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کی بیٹری بھی آپ کو شناخت کرنے کے لئے استعمال ہوسکتی ہے


کسی بھی ڈیوائس کو ٹریک کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ڈیوائس کو انٹرنیٹ پرموجود آئی پی ایڈریس سے بھی تلاش کیا جا سکتا ہے
انٹرنیٹ پر موجود مختلف آن لائن سروسز پر ڈیوائس کی پروفائل سے بھی ڈیوائس کو ٹریک کیا جا سکتا ہے
کسی ڈیوائس پر متحرک ہارڈ وئیر لگا کر یا سافٹ وئیر یاانسٹال کر کے بھی اسے ٹریک کر سکتے ہیں، اس میں مسئلہ یہ ہے کہ اس ہارڈ وئیر یا سافٹ وئیر کا پتہ چلتے ہی اسے ہٹایا یا ان انسٹال کیا جا سکتا ہے۔ 
تاہم مجموعی طور پر سروس پروفائل اور مال وئیر کی مدد سے کسی ڈیوائس کو کامیابی سے ٹریک کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس میں سب سے بڑی دقت اُن چھوٹے وقفوں پر قابو پانا ہے جس میں ڈیوائس سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے۔جیسے کسی مخصوص وقت میں آئی پی ایڈریس کا فعال نہ ہونا یا صارف کا انٹرنیٹ سے جڑنے کے لئے ٹور کا استعمال شروع کردینا۔ ایسے میں ڈیوائس کی شناخت کا عمل ناممکن ہوجاتا ہے۔ مگر اس کا ایک حل فرانس اور بیلجیئم سے تعلق رکھنے والے محققین نے پیش کیا ہے۔
یہ نئی تکنیک ایک پروگرام جسے بیٹری اسٹیٹس اے پی آئی (ایپلی کیشن پروگرامنگ انٹرفیس) کہا جاتا ہے ، استعمال کرتی ہے۔ یہ دراصل ایچ ٹی ایم ایل 5 میں شامل ایک سہولت ہے جسے کروم، فائر فاکس یا اوپیرا ویب براؤزر سپورٹ کرتے ہیں۔ یہ اے پی آئی اسمارٹ فون، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ کمپیوٹر کی بیٹری کا لیول معلوم کرنے ، چارجنگ یا ڈس چارنگ کا وقت نوٹ کرنے کے کام آتی ہے۔ بیٹری اسٹیٹس اے پی آئی سے حاصل ہونے والا ڈیٹاکسی ڈیوائس کو شناخت کرنے کے لئے انگلیوں کے نشانات کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس ڈیٹا سے یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ایک ڈیوائس کی حرکات و سکنات دوسری ڈیوائس سے کتنی ملتی جلتی ہیں۔ محققین کے مطابق بیٹری اسٹیٹس اے پی آئی کے ذریعے ویب سائٹس جو ڈیٹا حاصل کرتی ہیں، اس میں سیکنڈوں کی حد تک بتایا گیا ہوتا ہے کہ بیٹری کو ڈِس چارج ہونے میں مزید کتنا وقت لگے گا اور مزید کتنے فی صد بیٹری باقی ہے۔ ان دونوں اعداد و شمار کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ منفرد نمونےبنائے جاسکتے ہیں۔ یوں یہ دونوں نمبر کسی شناختی نمبر کی طرح کام آسکتے ہیں۔
پرانی بیٹریاں ڈیوائس کو شناخت کرنے کے لئے زیادہ بہتر ثابت ہوتی ہیں کیونکہ ان کا چارجنگ لیول زیادہ منفرد ہوچکا ہوتا ہے۔ فیکٹری سے تازہ تازہ نکلی ہوئی بیٹریاں اکثر ایک سی ہوتی ہیں۔ اس لئے چارج کی بنیاد پر اُن میں فرق کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔
ورلڈ وائیڈ ویب کنشورشیم(W3C) جو ورلڈ وائیڈ ویب کے معیارات طے کرنے کا ذمے دار ادارہ ہے، کے مطابق بیٹری کا ڈیٹا سکیوریٹی کے حوالے سے اتنا اہم نہیں۔ اسی لئے اس ڈیٹا کو سافٹ وئیر جب چاہیں استعمال کرسکتے ہیں اور اس کے لئے انہیں صارف کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لئے بیٹری کے ذریعے ڈیوائسز کو شناخت کرنے کا عمل مستقبل میں زور پکڑ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے پی آئی کو تھوڑا بیکار کرکے صارف کی شناخت کو محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اگر یہ اے پی آئی سو فیصد درستگی سے بیٹری کی حالت کے بارے میں اطلاع دینے کے بجائے تقریباً درست حالت کے بارے میں بتائے تو اس اے پی آئی کو فنگر پرنٹس کی طرح استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔ ویسے بھی فائر فاکس یا کسی دوسرے براؤزر کو اگر بیٹری کی حالت کے بارے میں نہ بھی پتا ہو تو زیادہ فرق نہیں پڑنا۔
ٹور نیٹ ورک کو چلا دینے سے بیٹری کی گنجائش تبدیل نہیں ہو جاتی، نہ ہی وی پی این استعمال کرنے سے ایسا ہوتا ہے۔بائیو میٹرک سینسر ، جو صارفین کی ڈیوائس میں زیادہ سے زیادہ عام ہوتے جا رہے ہیں، کسی شخص کو شناخت کرنے کا عمل زیادہ سہل ہوگیا ہے۔

تصویر کہاں کھینچی گئی مقام کا پتہ چلائیں

تصویر کہاں کھینچی گئی مقام کا پتہ چلائیں



ہر تصویر میں ایسا ڈیٹا موجود ہوتا ہے جس سے یہ جانا جا سکتا ہے کہ یہ تصویر کس مقام پر بنائی گئی۔ جدید ڈیجیٹل کیمروں میں بھی یہ چیز موجود ہوتی ہے 

میٹا انفارمیشن

EXIF 
یا ایکسچینج ایبل امیج فائل فارمیٹ تصاویر میں شامل میٹا (meta) انفارمیشن کو کہا جاتا ہے۔ اس معلومات میں تاریخ و وقت، کیمرے، تصویر، کیمرے کی مختلف خصوصیات سمیت کئی اہم معلومات موجود ہوتی ہیں۔ یہ تمام معلومات تصاویر ی فائل ہی میں محفوظ ہوتی ہے۔ مائیکروسافٹ ونڈوز سمیت تما م ہی جدید آپریٹنگ سسٹمز میں یہ معلومات کسی تصویر پر رائٹ کلک کرکے پرارٹیز کی ونڈوز میں دیکھی جاسکتی ہے۔ 

پرانے فوٹو ایڈیٹرز کے ذریعے جب کسی فوٹو کو ایڈٹ کیا جاتا تھا تو وہ یہ میٹا معلومات ضائع کردیتے تھے لیکن جدید ایڈیٹر (بشمول فوٹو شاپ، کورل ڈرا وغیرہ) یہ معلومات ضائع نہیں کرتے بلکہ تصویر میں کی گئی ایڈیٹنگ کی معلومات بھی اس میں شامل کر دیتے ہیں۔ 
چونکہ جدید کیمروں اور موبائل فونز میں جی پی ایس (گلوبل پوزیشنگ سسٹم ) بھی موجود ہوتا ہے، اس لئے اب Exif ڈیٹا میں اس جگہ کے طول البلد اور عرض البلد کی معلومات بھی موجود ہوتی ہے جہاں تصویر کھینچی گئی ہے۔ اسے جیو ٹیگنگ کہا جاتا ہے۔ یہ معلومات صارفین کے فائدے کے لئے شامل کی جاتی ہے، لیکن اس کے کئی نقصانات بھی ہیں۔ Exif ڈیٹا کی وجہ سے تصویر کھینچے والے، کھنچوانے والے اور کئی دیگر حساس و نجی معلومات تک پہنچا جاسکتا ہے 

جی پی ایس کوآرڈنیٹس تلاش کریں

یہ معلومات تصویر کے ’’میٹا ڈیٹا‘‘ (Metadata) میں موجود ہوتی ہے۔ اسے دیکھنا بھی بالکل آسان ہوتا ہے۔ بس تصویر کو ڈاؤن لوڈ کر کے اس پر رائٹ کلک کرتے ہوئے پراپرٹیز منتخب کر لیں۔ پراپرٹیز کھل جائیں تو Details کے ٹیب میں آجائیں۔یہاں جی پی ایس کے ذیل میں موجود Latitude اور Longitude کوآرڈنیٹس دیکھیں۔ اگر یہ معلومات موجود ہے تو آپ اس تصویر کو کھینچے جانے کا مقام باآسانی معلوم کر سکتے ہیں۔

ضروری نہیں ہوتا کہ آپ کو یہ معلومات ہر تصویر میں مل جائے۔ کیونکہ تصویر بنانے والے اکثر یہ آپشن کو غیر فعال رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ تصویر کہیں سے ڈاؤن لوڈ کریں تو یہ جس ویب سائٹ پر موجود ہو گی اکثر وہ ویب سائٹس بھی یہ میٹا ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیتی ہیں۔ 

کوآرڈنیٹس سے نقشے پر مقام کی تلاش

جی پی ایس کوآرڈنیٹس کو کسی نقشے پر تلاش کرتے ہوئے جانا جا سکتا ہے کہ تصویر کس مقام پر بنائی گئی۔ آن لائن نقشوں کی کئی سروسز یہ سہولت دیتی ہیں۔ مثلاً آپ باآسانی گوگل میپس پر تلاش کرسکتے ہیں۔ کوآرڈنیٹس کو استعمال کرتے ہوئے کیسے مقام کا تعین کیا جاتا ہے، آئیے آپ کو بتاتے ہیں۔
سب سے پہلے تو اپنے موبائل فون کے کیمرے سے لوکیشن کو آن کرتے ہوئے کوئی تصویر بنائیں۔ اب اس تصویر کو کمپیوٹر پر منتقل کر کے اس کی پراپرٹیز میں آجائیں۔ آپ دیکھیں گے کہ اس میں GPS کے ذیل میں ہماری مطلوبہ معلومات موجود ہے۔ اسے اپنے پاس نوٹ پیڈ میں ٹائپ کر لیں۔
اب نقشوں کی یہ ویب سائٹ کھولیں:

ہمارے پاس Latitudeاور Longitude کی جو معلومات ہے وہ ڈگریز، منٹس اور سیکنڈز کے حساب سے ہے۔اس لیے اسے اس ویب پر موجود DMS (degrees, minutes, secondes) کے حساب میں ٹکڑوں میں پیسٹ کریں۔
مثلاً ہمارے پاس Latitude اگر درج ذیل ہے:
24; 49; 35.2344566687003322